شیخ شمس
گونڈہ:ضلع میں نوجوانوں کی حیران کن گم شدگی اور خراب کیفیت میں لاشوں کی برآمدگی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے عوام میں سخت اضطراب کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے لوگ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ آخر اس طرح کے واقعات کیوں ہورہے ہیں جبکہ انتظامیہ اور پولیس اس طرح کے واقعات کو محض حادثاتی موت دکھانے پر آمادہ ہے ۔
غور طلب ہے کہ سال 2025 کا پہلا مہینہ جنوری ابھی اختتام پذیر ہونے کو ہے اب تک اس طرح کے سنگین تین واقعات رونما ہوچکے ہیں جنکی وجہ سے انتظامیہ اور پولیس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔پہلا واقعہ 11 جنوری کا ہے جب شہر کوتوالی کے لچھمن پوری کالونی آواس وکاس کے رہنے والے 17 سالہ نوجوان مبین خاں دیر شب شدید زخمی حالت میں گھر پہنچا تھا جسے آنافانا گھر والوں نے ہسپتال میں داخل کرایا تھا جہاں کی ایک وائرل ویڈیو میں اس کے چہرے کی مخدوش تصویر اس کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو صاف طور پر بیان کرتی ہوئی نظر آرہی تھی جسے ڈاکٹروں نے لکھنوریفر کردیا تھا لیکن لکھنو ٹراما سینٹر میں اسکی بعد میں موت ہوگئی تھی ۔جس کے بعد اسکی ماں نے ایک یوٹیوب چین پر رورو کر حکومت اور انتظامیہ سے انصاف کی فریاد کی تھی لیکن ابھی تک اس معاملے میں نہ تو پولیس نے کوئی خلاصہ کیا اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی البتہ اس کو بجلی کا کرنٹ لگنے کا حادثہ بتانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ دوسرا واقعہ 15 جنوری کا ہے جب تھانہ انٹیاتھوک کے گرام پنچایت برما پور کے رہنے والے 27 سالہ شکیل احمد رات کو 8 بجے اپنی بیوی سے یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ کچھ ہی دیر میں واپس آجائے گا اس دوران اسکے موبائل پر کسی کابار بار فون بھی آرہاتھاجیسا کہ اسکی بیوہ نے بتایاہے ۔10 بجے تک جب وہ واپس نہیں آیا تو گھر والوں نے فون کرنا شروع کیا لیکن تب تک اس کا نمبر بند یوچکا تھا۔اس کے بعد کافی تلاش کی گئی لیکن اس کا کہیں سراغ نہیں ملا اور پھر 16 جنوری کو انٹیاتھوک تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی ۔وہیں 17 جنوری کو تھانہ انٹیاتھوک حلقہ کے ہی لکھنی پور گاؤں کے پاس اسکی مخدوش لاش برآمد کی گئی ۔جسکی دونوں آنکھیں نکلی ہوئی تھیں ، کان کٹے ہوئے تھے اور چہرے پر بھی زخم کے نشان تھے ایسا چشم دید لوگوں کا کہنا ہے ۔اس معاملے میں بھی پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔تیسرا واقعہ 27 جنوری کا ہے جب انٹیاتھوک تھانہ کے ہی تحت ایک مچھلی تاجر کی مشتبہ حالت میں لاش برآمد کی گئی ۔متوفی کی پہچان اومیش کشیپ(37) ساکن دھرمئی کے طور پر کی گئی ہے جو بیض پور واقع 27 نمبر چوراہے پر مچھلی بیچنے کا کام کرتا تھا۔بتایا جاتاہے کہ اومیش اتوارکے روز ہی لاپتہ ہوگیا تھا جسکی تلاش کی گئی لیکن کہیں سراغ نہیں ملا اور آخر کار 27 جنوری کو سرجو نہر کے پاس ایک کھائی میں پڑی اسکی لاش برآمد کی گئی۔راہ گیروں کی اطلاع پر پہنچی پولیس نے متوفی کاموبائل فون ، جوتے اور سائکل لاش سے تقریبا 400 میٹر دوربرآمد کیا تھا۔کھائی کے پاس ہی اومیش کے کپڑے اور پرس برآمد ہوئے تھے۔پولیس اس معاملے کی بھی تفتیش کررہی ہے۔ وہیں پیر کے روز سماجوادی پارٹی کے قومی سکریٹری مسعودعالم خاں نے انٹیاتھوک کے برما پور گاؤں پہنچ کر متوفی شکیل احمد کی بیہوہ اور گھروالوں سے ملاقات کی اور ان کے لئے انصاف کی لڑائی میں ہرممکن مدد فراہم کرنے کا بھروسہ دلایا ہے۔

