گونڈہ:اترپردیش کان سبھا گونڈہ بلرامپور کی کمیٹی اور بھارت کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی)ضلع کمیٹی نے ریاست کی یوگی حکومت کے ذریعہ گنے کی قیمت میں محض 20 پیسے فی کلو بڑھانےکو ناکافی قراردیا ہے اور اس کو کسانوں کے ساتھ وعدہ خلافی بھی بتایاہے ۔ضلع سکریٹری کوشلیندر پانڈے نے کہا کہ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے مطابق گنے کی قیمت 500 روپئے فی کنتل ہونا چاہئے ۔ان سفارشوں کو نافذکرنے کا وعدہ وزیر اعظم نریندر مودی 2014 سے کررہے ہیں لیکن ابھی تک اس کو پورا نہیں کیا گیا ۔کامریڈ سوامی ناتھ ورما اور کامریڈ امت شکلا نےبتایاکہ دوسالوں کے بعد گنے کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے
۔یوگی حکومت نے اپنے 7 سال کے مدت کار میں محض 55 روپئے فی کنتل اضافہ کیا ہے ۔جو سالانہ 7.86 روپئے ہوتی ہے وہیں کھاد ، بیج ، ڈیزل ، بجلی اور دیگر اخراجات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔اب بھی اترپردیش میں نارتھ انڈیا میں گنا سب سےسستا ہے ۔پنجاب میں 391 روپئے فی کنتل ، ہریانہ میں 355 روپئے فی کنتل جبکہ اترپردیش میں تین کٹیگری کر کے 370 ، 360 اور 355 روپئے فی کنتل ہے ۔دیگر صوبوں میں اضافوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اترپردیش میں دوسال کے بعد اضافہ کیا گیا ہے جو ناکافی ہے ۔جبکہ چینی ملوں کو دوروپئے فی کنتل ڈھلائی بھاڑا میں بھی راحت دی گئی ہے۔اترپردیش کسان سبھا اور مارکسوادی کی جانب سےمانگ کی گئی ہے کہ گنے کی قیمت 500 روپئے فی کنتل کیاجائے ۔اور گناکسانوں کا بقایا 5665 کروڑ مع انٹریسٹ ایک مشت ادا کیا جائے ۔اور موجودہ پرائی سیشن کے گنا خرید کے 14 دن کے اندر ہی ادائیگی کی جائے۔

