گونڈہ:مشہور شاعر منور رانا کی رحلت اور آل انڈیا مسلم مجلس کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ ندیم صدیقی کے والد حاجی مستقیم صدیقی کی ہادمیں بدھ کے روز محلہ امام باڑہ واقع سید محمود علی عاکف ایڈوکیٹ اور عاطف گونڈوی کے رہائشگاہ پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی ۔ نشست میں بزرگ شاعر جمیل اعظمی نے عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کے انتقال پر سخت رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کی اور کہا کہ منور رانا صاحب کے ساتھ انھوں نے کئی مشاعرے پڑھے ہیں ۔جمیل اعظمی نے کہا کہ منور رانا شروعاتی دورمیں روایتی شاعری کیا کرتے تھے لیکن دھیرے دھیرے انھوں نے آسان زبان میں شاعری شروع کردی جس کی وجہ سے وہ عوام میں خوب مقبول ہوئے اس طرح رانا صاحب عوام وخواص سبھی کے چہیتے بن گئے ۔اس موقع پر افسر حسن نے کہاکہ شاعری مسلسل ہوتی آرہی ہے اور آگے بھی ہوتی رہے گی لیکن منور رانا پھر پیدا نہیں ہوں گے ۔ان کی شاعری عوام کے دلوں کو متاثر کرتی رہے گی ۔ان کے علاوہ ابھشیک شری واستو ، جمشید وارثی ، مجیب احمد ، عاطف گونڈوی اور الحاج گونڈوی وغیرہ نے خراج عقیدت پیش کی ۔
وہیں مسلم مجلس کے ضلع صدر سید محمود علی عاکف نے پارٹی کے ریاستی صدر کے والد حاجی مستقیم صدیقی کے انتقال پر تعزیت پیش کی اور کہا کہ حاجی مستقیم صدیقی ایک نہایت خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے ۔کلکتہ پولیس سے 1987 میں ریٹائرڈ ہوئے تھے ۔ان کے پسماندگان میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں جن میں چھوٹے بیٹے کا گزشتہ سال انتقال ہوچکا ہے ۔بیٹے کے انتقال کے صدمے اور دیگر بیماریوں سے متاثر ہوگئے تھے آخرکار 16 جنوری 2024 کو ان کا انتقال ہوگیا ۔جنہیں ان کے آبائی وطن اٹکولی ضلع سلطانپور میں سپرد خاک کیا گیا ۔اللہ انکی مغفرت فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے ۔تعزیتی نشست کی نظامت ایمان گونڈوی نے کی ۔اس دوران مسلم مجلس کے قومی ترجمان محمد جنید ، محمد اسرائیل بابو ، حافظ صلاح الدین ، حاکم ، صغیر قریشی ، عبدالحفیظ خان اور رہائشگاہ پر منعقد نشست میں موجود لوگ

