
اردو زبان کی وکالت سماجوادیوں نے ہمیشہ کی ہے :ماتا پرساد پانڈے
حزب اختلاف کے لیڈر کا گورا اسمبلی حلقے میں گلپوشی کرکے کیا گیا پرزورخیرمقدم
شیخ شمس
گونڈہ:ضلع کے گورا اسمبلی حلقے میں اتوار کے روز حزب اختلاف کے لیڈر ماتا پرساد پانڈے کا سماجوادیوں نے زوردار استقبال کیا اس موقع پر انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حالیہ دنوں اسمبلی ہاؤس میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ اردو زبان کو لے کر دی گئی غلط بیان بازی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اسمبلی میں اردو اور سنسکرت کو بھی شامل کرنا چاہئے کیونکہ یہ دونوں زبانیں ہماری ہیں ۔
حزب اختلاف لیڈر اتوار کے روز اپنے گاؤں ڈومریا گنج کے لئے جاتے وقت گورا پہنچے تھے جہاں سماجوادی پارٹی لیڈر حفیظ ملک اور ان کے بڑے بھائی سابق ایم ایل اے امیدوار کلام ملک وان کے درجنوں حامیوں نے گلپوشی کرکے ان کاپروزور استقبال کیا اور وہ کچھ دیر کے لئے گورا چوکی واقع حفیظ ملک کے دفتر بھی گئے جہاں انھوں نے میڈیا سے بھی بات چیت کی اور میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے حالیہ دنوں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ اردو زبان کو لے کر جو اشتعال انگیز بیان دیا ہے اسکی انھوں نے سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ انگریزی زبان کےاور انگریزی تہذیب کے حامی اردو اور سنسکرت کی اہمیت کیا جانیں یہ دونوں زبانیں ہماری اپنی زبان اور شناخت ہیں اسی ہم سماجوادیوں نے اردو زبان کی ہمیشہ وکالت کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی نیتا جی آنجہانی ملائم سنگھ یادو نے اسمبلی میں اردو زبان کو جوڑا تھا لیکن موجودہ حکومت کے لوگ اس کو ختم کررہے ہیں جو نہایت افسوسناک ہے ۔پریاگ راج مہاکمبھ کے دوران کی خواتین کی نہاتے وقت کی تصویریں بیچنے کے معاملے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ ہماری ماؤں بہنوں کی عصمتیں بھی اب محفوظ نہیں ہیں ۔جہاں ہماری مائیں بہنیں اپنی عقیدت وآستھاکے ساتھ جاکر گنگا جی میں آشنان کرتی ہیں وہاں انکی تصویریں کھینچ کر انہیں بیچنے کا کاروبار کیا جارہا ہے حکومت کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔


