
وقف املاک پر بنیں گے ہسپتال اور تعلیم گاہیں :دانش آزاد
ایک روزہ دورے پر آئے حکومت اترپردیش کےوقف و اقلیتی امور کے وزیر نے حکومت کے حالیہ بجٹ پر کیا پریس کانفرنس کہاحکومت صوبے کے پسماندہ مسلمانوں آگے بڑھانے پر کررہی ہے کام 2400 کروڑ کا رکھا گیا ہے بجٹ
شیخ شمس
گونڈہ:ہفتہ کے روز ایک روزہ دورے پر گونڈہ آئے حکومت اترپردیش کے وقف واقلیتی امور کے وزیر دانش آزاد انصاری نے حکومت کے حالیہ بجٹ پر خصوصی پریس کانفرنس کی اور میڈیا سے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے وقف ترمیمی بل کے پاس ہونے کے بعد ہماری حکومت نے پسماندہ پسماندہ مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے ایکشن پلان تیار کیا ہے اور حکومت اترپردیش نے اقلیتوں کے لئے وقف املاک پر ہسپتال اور تعلیم گاہیں بنانے کے لئے بجٹ میں خاص خیال بھی رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ اس بار 2400 کروڑ روپئے کا بجٹ اقلیتوں کی بہبود کے لئے رکھا گیا ہے ۔ہم مدرسوں کی تعلیم کو مین اسٹریم سے جوڑنے کو لے کر سنجیدہ ہیں ۔اب کاغذوں پر مدرسے نہیں چلیں گے بلکہ جو بھی مدرسے چلیں گے وہ نئی نسل کو بہتر سے بہترین تعلیم فراہم کریں گے اس کے لئے حکومتی سطح پر مسلسل کام کیا جارہا ہے ۔ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ وقف ترمیمی بل کے خلاف ناراضگی ہے اور اس کی مخالفت ہورہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وقف ترمیمی بل کے خلاف کچھ خاص سیاسی پارٹی کے لوگ عوام میں شکوک وشبہات پیدا کررہے ہیں جبکہ عام مسلمانوں کو اس ترمیمی بل سے کوئی مخالفت نہیں ہے بلکہ وہ خوش ہیں ۔انھوں نے سماجوادی پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ جب جب اترپردیش میں ترقی اور بہتری کی طرف کام ہوتا ہے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور ان کے لوگوں کےپسینے چھوٹنے لگتے ہیں ۔مہاکمبھ پرکئے گئے سوالوں کاجواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور سماجوادی پارٹی ڈبل انجن کی حکومت کی مخالفت پر اس قدر آمادہ ہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کے بھی مخالف ہوتے جارہے ہیں ۔انھوں نے کیا کہ مہاکمبھ کی وجہ سے آج پوری دنیا میں ملک کا نام روشن ہورہا ہے اب تک 60 کروڑ لوگوں نے گنگا میں اشنان کرلیا ہے جس کو گنیش بک کے ورڈ لکارڈ میں بھی درج کیا گیا ہے لیکن یہ لوگ اس کو بھی برداشت نہیں کر پارہے ہیں ۔اس دوران بی جے پی کے ضلع صدر امرکشورکشیپ ‘بم بم ‘ گورا ممبر اسمبلی پربھات کمار ورما ، طرب گنج ممبر اسمبلی پریم نراین پانڈے ، راجیو کمار رستوگی ،عتیق احمد ، بھوپیندر آریہ ، فیصل شاہ سمیت بڑی تعداد میں پارٹی کے عہدے داران اور اکھل بھارتیہ ادیوگ کے عہدے داران بھی موجودرہے۔


