
امام عصر کے حضور نہیں ظہور کے منتظر ہیں ہم: مولانا سید حیدر عباس رضوی
اہلبیت اطہار کانفرنس بعنوان فضیلت ماہ شعبان کا پر شکوہ اہتمام
شیخ شمس
اترولہ بلرامپور: اعیاد شعبانیہ اور فضیلت شعبان المعظم کے پیش نظر گذشتہ برسوں کی طرح امسال بھی حاجی فہمید رضا کی جانب سے اترولہ میں شاندار اور پرشکوہ کانفرنس کا اہتمام کیا۔
اس منفرد اور ممتاز کانفرنس کا آغاز مولانا فرمان نے تلاوت کلام ربانی سے کیا۔

محترم ناظم عظیم ہلوری نے نعت پاک کے لئے مہمان شاعر فصاحت جونپوری کو دعوت دی۔موصوف نے اپنے دلنشین ترنم اور پر معنی اشعار کے ذریعہ حاضرین سے داد لی۔
نظم و نثر کے حسین امتزاج کے ساتھ یہ کانفرنس جاری رہی۔مولانا فدا حسین نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث کے تناظر میں منتظرین کے فرائض پر مدلل گفتگو کی۔جس کے بعد مقامی شعراء حضرات نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ بہترین اشعار پیش کئے جنمیں شارب اترولوی،علی حسن جعفر،انیس اترولوی،شجاع اترولوی اور علی عباس اترولوی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔مذکورہ شعراء کے علاوہ کمسن بچوں نے بھی اشعار پیش کئے۔
مولانا سید محمد علی نے مہدویت کے موضوع پر عمدہ گفتگو کی اور غیبت کو عقلی و نقلی دلائل سے پیش کیا۔
مولانا زائر عباس نے بہترین ترنم میں اشعار پیش کئے۔اس کے بعد ناظم محترم نے مہمان شاعر فصاحت جونپوری کو دعوت سخن دی۔جنہوں نے اپنے عمدہ اشعار پیش کر سونالیکا پیلس اترولہ کی فضا نعرہ ہائے حیدری سے مملو کر دی۔
کانفرنس کی صدارتی تقریر کے لئے مولانا سید حیدر عباس رضوی نے قرآنی آیت کا سہارا لیا۔مولانا نے ماہ شعبان کے مختلف ناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس با برکت مہینے کا ایک نام شہر الشفاعۃ ہے۔اس ماہ میں نبی اکرم اپنے امتیوں کی سب سے زیادہ شفاعت کرتے ہیں۔ماہ شعبان کے بچے ہوئے دنوں میں روزہ رکھنے اور گناہوں کی معافی کے لئے بارگاہ خداوندی میں حاضری کی تاکید کے ساتھ موصوف نے اضافہ کیا کہ ہمیں امام کے حضور نہیں بلکہ ظہور کا انتظار کرنا ہے۔امام حاضر ہیں البتہ ظاہر نہیں۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کے اہم کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا سید حیدر عباس رضوی نے فرمایا کہ امام عالیمقام نے وکالت کا سسٹم گذشتہ ائمہ اطہار سے زیادہ قوی کیا۔آج بھی وکالت کا سسٹم ہے لیکن مومنین کو اتنی شناخت ضرور ہونی چاہئے کہ وہ اپنی رقوم شرعیہ کس کے سپرد کر رہے ہیں۔کوٹھی اور پراپرٹی بنانے والوں سے ہوشیار رہنے پر زور دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ احمد ابن ہلال اور شلمغانی جیسے لوگ آج بھی موجود ہیں۔
مولانا سید حیدر عباس رضوی نے موجودہ دور میں محافل کے گرتے معیار پر اظہار افسوس کے ساتھ فرمایا کہ قرآن مجید نے معیاری شاعری کے اصول بتائے ہیں۔آج شعرائے کرام اشعار کے ذریعہ دینی پیغامات کی ترویج میں کوشاں رہیں یقینا مالک انہیں عزتوں سے نوازے گا۔
کانفرنس کا اختتام دعائے فرج کی تلاوت پر ہوا۔حاجی فہمید رضوی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

