مدارس اسلامیہ صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ بہترین انسانوں کی کردار سازی بھی کرتے ہیں

جامعہ اہلسنت نورالعلوم عتیقیہ کے سالانہ اجلاس سلطان المناظرین کانفرنس اور دستار بندی سے علماء کا خطاب
شیخ شمس
مہراج گنج ترائی بلرامپور:آج جسے دیکھو وہی ہم مدارس کو ہی ترغیب دیتا پھر رہا ہے جبکہ ہم اہل مدارس کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے صرف نسلوں کو مفت تعلیم ہی نہیں فراہم کیاہے بلکہ مسلسل بہترین انسانوں کی کردار سازی بھی کرتے جارہے ہیں یہی وجہ ہےکہ یہاں سے نکلنے والانوجوان قوم وملت کا امام بنتا ہے اور خود بھی تمام قسم کی سماجی برائیوں سے دوررہتا ہے اور معاشرے کو بھی دور رکھنے کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا ہے ۔

یہ باتیں بدھ کی شام مدرسہ جامعہ اہلسنت نورالعلوم عتیقیہ میں منعقد سلطان المناظرین کانفرنس اور جلسہ دستار بندی کو خطاب کرتے ہوئے الجامعتہ الاشرفیہ مبارکپور سے آئے نبیرہ حافظ ملت علامہ محمد نعیم الدین نے کہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ڈاٹا اٹھا کر چیک کر لیجئے ملک کے 97 فیصد بچوں کو اسکول ، کالج اور یونیورسٹی جیسے عصری تعلیمی ادارے تعلیم فراہم کررہے ہیں جہاں انہیں ڈاکٹر ، انجینئر ،ماہر قانون اور سول سروینٹ بنایا جارہا ہے لیکن شاید انہیں اخلاقیات وسماجیات کی تعلیم نہیں فراہم کی جارہی ہے اور انکی روحانی تربیت بھی نہیں کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ آج تعلیم یافتہ لوگ تو بڑھ رہے ہیں مگر سماج میں برائیاں بھی اس سے زیادہ تیز رفتار میں بڑھ رہی ہیں لوگ اونچے اونچے عہدوں پر فائز ہورہے ہیں اور وہاں پر اوراونچے اونچے جرائم بھی کررہے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ سخت مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں ۔لیکن ان 97 فیصد والوں کو کوئی ترغیب نہیں دیتا ۔علامہ مفتی مسیح الدین حشمتی نے کہاکہ سرکار دوجہاں نے اپنی وراثت میں گھر مکان ، باغات اور جائیداد کو نہیں چھوڑا ہے بلکہ اپنا علم چھوڑا ہے یہی وجہ ہے کہ علمائے دین کو انبیاء کے وارثین کے طور پر شمار کیا گیا ہے ۔جب سے امت نے علمائے دین کا احترام کرنا کم کیا ہے امت کو ہر طرف سے ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مفتی شیر محمد خاں نے معراج النبی کے حوالے سے خصوصی خطاب کیا جبکہ علامہ سہیل اختر مصباحی نےسربراہ اعلی الجامعتہ الاشرفیہ مبارکپورکے عزیز ملت کی قائدانہ خدمات سے لوگوں کو روشناس کرایا اور بتایا کہ جس طرح حافظ ملت علیہ الرحمہ نے کہا تھا کہ زمین پر اتر کر کام کرو نام کی فکر مت کرو ۔اس قول کو عزیز ملت نے کرکے دکھایا ہے ۔اس موقع پرمشہور نعت خواں قاری ضیاء یزدانی ،مولانا شبیر مسعودی اور فیضان نوری نے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔اس موقع پرعزیز ملت کے ساتھ دیگر علمائے کرام کے ہاتھوں جامعہ کےفارغین 29 حفاظ کرام اور 9 قراء کو جبیہ ودستار سے نوازا گیا ۔ پروگرام کی صدارت علامہ ضمیر الدین لطیفی اور نظامت مولانا محمد عمران رضاقادری نے کیا۔اس دوران قاری فریاد حسین ، مولانا ریاض اختر مصباحی ، علامہ مفتی عبدالرقیب خان مصباحی ، علامہ ذاکر حسین خانصاحب ،مولانا خورشیداحمد،مولانا شفاعت اللہ خان، قاری شہادت علی، قاری نورالدین رضوی، علامہ قاری الحاج ساجد علی اشرفی ،مولانا محمدشمیم قادری، مولانا فاروق صاحب، مولانا ابراہیم نوری، مولانا شیر علی ثقافی، مولانا رجب علی نعیمی، مولانا غلام ربانی، مولانا سلمان رضا،ماسٹر عبدالقادر ماسٹرغلام جیلانی محمدوسیم سمیت بڑی تعداد میں علمائے کرام کے ساتھ قرب وجوار کے لوگ موجودرہے۔


