گونڈہ میں بی جے پی اور سماجوادی امیدوار میں سیدھی جنگ بی ایس پی بھی تھی میدان میں ، قیصر گنج میں کرویامروجیسی صورت حال
گونڈہ:پارلیمانی انتخابات 2024 کے تحت پانچویں مرحلے میں گونڈہ اور قیصر گنج سیٹ کے لئے پیر کے روز پرامن پولنگ کرائی گئی الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ووٹنگ فیصد بڑھانے کی لاکھ کوششیں کی گئیں پھر بھی ووٹنگ فیصد میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہوا وہیں قیصر گنج پارلیمانی حلقے میں سخت سیکورٹی انتظامات کے دعوے پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے ہیں ۔

بتادیں کہ گونڈہ پارلیمانی حلقے کے تحت گونڈہ صدر ، مہنون ، منکاپور ، گورا اور اترولہ اسمبلی حلقے میں جبکہ قیصر گنج کے لئے طرب گنج ، کرنیل گنج ، کٹرہ بازار ساتھ ہی پیاگپور اور قیصر گنج اسمبلی حلقے میں پولنگ کرائی گئی ہے ۔ضلع الیکشن افسر نیہا شرما کے ذریعہ ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت مختلف پولنگ مراکز کو ماڈل پولنگ مراکز بنایا گیا تھا جہاں سیلفی پوائنٹ سے لے کر حق رائے دہندگان کو بیٹھ کر آرام کرنے کے لئے بھی انتظامات کرائے گئے تھے جہاں بہترین پنکھے اور کولر کا بھی نظم کیا گیا تھا جس میں فخرالدین علی احمد گورنمنٹ کالج ، تھامسن کالج اور گورنمنٹ گرلس کالج بھی شامل تھے ۔صبح کے وقت ووٹنگ کی رفتار تیز نظر آئی لیکن جیسے جیسے دوپہر کی تپش بڑھی ووٹروں کا جوش بھی مدھم پڑتا گیا ۔11 بجے تک گونڈہ 26.68 فیصد جبکہ قیصرگنج میں 27.95 فیصد تک پولنگ ہوچکی تھی ۔اور ایک بجے تک گونڈہ میں 36.67 فیصد تک پہنچی تو قیصر گنج میں 38.48 فیصد تک پولنگ ہوئی ۔وہیں شام 5 بجے تک کی رپورٹ کے مطابق گونڈہ میں محض 49.9 فیصد جبکہ قیصر گنج 53.8 فیصد تک پولنگ پہنچ پائی تھی ۔

کرنیل گنج کے اہرورہ پولنگ بوتھ پرتنازعہ
پیر کے روز یوپی کی سب سے زیادہ موضوع گفتگو بنی قیصر گنج پارلیمانی سیٹ پولنگ کے دوران اس وقت پھر سرخیوں میں آگئی جب یہاں کے کرنیل گنج اسمبلی حلقے کے اہرولی پولنگ بوتھ پر دوپارٹیوں کے لیڈران میں تنازعہ ہوگیا ۔تنازعہ ہوجانے کے بعد جس طرح سماجوادی پارٹی کے اسمبلی حلقہ صدر راج کمار سنگھ نے تحریر دے کر غلط ووٹ ڈالنے سے روکنے پران کے اوپر ہوئے حملے کی شکایت کی ہے اس سے ضلع انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے سخت سیکورٹی انتظامات کے دعوں پر سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے ہیں ۔

راج کمار سنگھ کے ذریعہ کوتوالی کرنیل گنج میں دی گئی تحریر میں کہاگیا ہے کہ وہ سماج وادی پارٹی کرنیل گنج اسمبلی حلقہ کے صدر اور اہرولی گاؤں کے سابق پردھان بھی ہیں پیر کے روز جب وہ اپنے پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈال کر نکل رہے تھے تبھی بی جے پی کے گونڈہ صدر ایم ایل اے پرتیک بھوشن سنگھ اور ان کے ساتھ ضلع پنچایت رکن مہیندرپرتاپ سنگھ ، اشوک سنگھ اور انوپ گوسوامی ودیگر ساتھیوں کے ساتھ پولنگ بوتھ میں گھس آئے اور گالی گلوج دیتے ہوئےجان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگے کہ چپ چاپ یہاں سے نکل لواور جبرااپنے لوگوں سے ووٹ ڈلوانے لگے جب میں نے اسکی مخالفت کی تو پرتیک بھوشن نے اپنے گنر سے بندوق چھین کر اسکی بٹ سے مجھ پر حملہ کیا جس سے میرے منہ اور آنکھ پر چوٹیں آئی ہیں ۔وہیں سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر سابق وزیر یوگیش پرتاپ سنگھ نے بھی اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پرتیک بھوشن سنگھ کا پولنگ مراکز میں گھسنا ہی الیکشن کمیشن کے اصول وضوابط کی دھجیاں اڑانے کے لئے کافی ہے ۔انھوں نے کہا کہ کئی پولنگ مراکزپر اس طرح کی شکایتیں آئی ہیں جہاں یہ لوگ جبراگھس گھس کر فرضی واٹ ڈلوانے کا کام کررہے تھے اہرولی میں چونکہ اسمبلی حلقہ صدر راج کمار سنگھ موجودتھے انھوں نے اسکی مخالفت کی تو ان پر ان لوگوں نے حملہ کردیا یہ نہایت افسوسناک صورت حال ہے ۔الیکشن کمیشن کو اس پر سخت کارروائی کرنی چاہئے ۔
سوشل میڈیا پر گمراہ کن اطلاعات نشر کرنے پر ایف آئی آر کی ہدایت
ضلع الیکشن افسرنیہا شرما نے پولنگ سے متعلق ایک گمراہ کن اطلاع سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کی ہدایت دی ہے ۔یہ فرضی ویڈیو ایک واٹساپ گروپ میں شیئر کی گئی تھی ۔ڈی ایم کی ہدایت پر میڈیا سرٹفکیشن اور پارلیمانی انتخابات 2024 کے ذریعہ ایس پی گونڈہ کو مکتوب بھیج دی گئی ہے ۔ڈی ایم نے بتایا ہے کہ متعلقہ ویڈیو طرب گنج کے بوتھ نمبر 144 اور 143 جونئیر ہائی اسکول بہادرا کے ہونے کا دعوی کیا گیا تھا ۔متعلقہ سیکٹر مجسٹریٹ سے اس پورے معاملے کی جانچ کرائی گئی ہے ۔جانچ میں یہ دعوی گمراہ کن پایا گیا ہے ۔جانچ میں پولنگ بوتھ پر تعینات پولنگ ملازمین اور ویڈیو میں نظر آنے والے ملازمین الگ الگ پائے گئے ہیں ۔اس ویڈیو کا پولنگ بوتھ 144 سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جانچ کے بعد متعلق کےخلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔

