بلرامپور:معہد السنہ گینسڑی میں چار طلبہ( محمد ساجد محمد علقمہ محمد راشد محمد رمان)کے تکمیل حفظ قرآن پر دستار بندی کا پروگرام ہوا جسکی صدارت مولانا عبد العلیم مدنی نے کی ۔ پروگرام کا آغاز محمد علقمہ کی تلاوت سے ہوا اناؤنسر کے فرائض مولانا تنویر احمد نے انجام دیے ۔
ادرہ کے بانی و ناظم مولانا عبدالرب گونڈوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔ جس کا مشاہدہ ہم آئے دن کرتے رہتے ہیں ۔ذہین سے ذہین لوگ چھوٹی سے چھوٹی کتاب کو زبانی یاد نہیں کر پاتے لیکن مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے پورے قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیتے ہیں یہ کھلا ہوا آسمانی معجزہ نہیں تو اور کیا ہے ؟
موصوف نے یہ بھی کہا کہ قرآن کی حفاظت خود اللہ نے لی ہے اس لئے نہ اسے مٹایا جاسکتا ہے نہ دبایا جا سکتا ہے نہ اس میں کسی قسم کی ترمیم یا تحریف ہوسکتی یے۔ چنانچہ عقیدت ہی نہیں تاریخ بھی اس پر گواہ ہے کہ قرآن اب تک محفوظ ہے اور حفظ و تلاوت ہی نہیں بلکہ تمدنی حالات بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ مستقبل کے آخری لمحہ تک محفوظ رہے گا ۔مولانا نے اتحاد ملت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم دشواریوں ، ذلتوں اور بربادیوں کے شکار ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ نا اتفاقی اور آپسی انتشار ہے اگر ہم قرآن سے جڑے ہوتے تو متحد ہوتے اور متحد ہوتے تو ہمیں یہ برے دن نہ دیکھنے پڑتے پروگرام میں
الحاج علاؤالدین خاں سابق ایم ایل اے، محمد اسلم،مولانا عبد التواب عمری ، مولانا عبداللہ سلفی، محمد مصروف اور حاجی للن، اور لیاقت اللہ بیٹری وغیرہ کے علاوہ علاقہ کا ایک بڑا مجمع شریک ہوا
بعد میں فارغین کو انعامات سے نوزا گیا۔

