ایک عرصے سےاردو کی نوک وپلک سنوار رہا ہے مینائیہ کا مشاعرہ بسنت :ڈاکٹر لائق علی خاں

مشہور خانقاہ دربار عالیہ مینائیہ میں سجادہ نشین الحاج حسن سعید (جمال مینا)کی سرپرستی میں بسنت کے موقع پر منعقد ہوا کل ہند مشاعرہ نعت ومنقبت
شیخ شمس
گونڈہ:بابا حضور محبوب العلماء والمشائخ حضرت الحاج محبوب مینا شاہ علیہ الرحمة الرضوان ہمارے دور کے ایک ایسے عظیم عبقری شخصیت تھے جنہوں نے ایک طرف جہاں جامعہ امیرالعلوم مینائیہ قائم کرکے مسلک اعلی حضرت کی تبلیغ کا شاندار منبع تیار کیا تو وہیں ہندوستان بھر میں سب سے پسماندہ ضلع میں شمار ہونے والے گونڈہ ضلع میں سب سے پہلے مینا شاہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی قائم کرکے 21 ویں صدی کے نوجوانوں کو اپنا مستقبل روشن کرنے کا ایک نیا باب کھول دیا وہ یہیں نہیں رکے بلکہ بدلتے حالات کو سمجھتے ہوئے اردو زبان وادب کے تحفظ اور اردو شاعری کی نوک وپلک سنوارنے کے مقصد سے تقریبانصف صدی قبل طوطئی ہند سیدنا حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کی یاد میں اپنے پیر ومرشد سیدنا مخدوم اکرام مینا شاہ علیہ الرحمہ کی موجودگی میں بسنت کے موقع پر جومشاعرہ بسنت کی داغل بیل ڈالی وہ آج تک مسلسل جاری ہے بلکہ اب ان کے صاحب سجادہ کی سرپرستی میں مزید توانائی کے ساتھ یہ مشاعرہ اردو شاعری کو مستحکم کرنے کا کام کررہا ہے ۔یہ باتیں اتوار کی شب بسنت کے موقع پر مشہور خانقاہ دربار عالیہ مینائیہ میں منعقد کل ہند مشاعرہ نعت ومنقبت میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر لائق علی خاں نے کہیں ۔
انھوں نے کہا کہ گونڈہ کی سرزمین ادبی لحاظ سے کئی معنوں میں بہت زرخیزثابت ہوئی ہے یہاں حضرت اصغر گونڈوی جیسے عظیم شاعر نے پرورش پائی ہے تو رئیس المتغزلین جگر مرادآبادی کو بھی یہیں سے شاعری کی دنیا میں عروج حاصل ہوئی ۔یہاں کے کئی غیر مسلم شعراء نے بھی نعت ومنقبت میں بہترین نذرانہ عقیدت پیش کئے ہیں ۔ نعتیہ شاعری جو اردو کا ایک سب سے اہم سرمایا ہے اس کی شروعات خانقاہوں سے ہی ہوئی ہے اور آج بھی خانقاہوں سے اس صنف سخن کو فروغ مل رہی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ آج اردو زبان وادب کا مسئلہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اگر ہماری خانقاہیں اور مدارس اسلامیہ کو چھوڑدیا جائےتو اردو لکھنے اور پڑھنے والے چراغوں سے ڈھونڈنے پر شاید ملیں گے یہی محبوب العلماء کی دوراندیشی تھی ۔

اس موقع پر شعراء کے ذریعہ پڑھے گئے کلام میں وہ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں جنہیں سامعین نے خوب داد وتحسین سے نوازا
سانسوں سے لوہبان کی خوشبو آتی ہے
باتوں سے ریحان کی خوشبو آتی ہے
بھارت سے ہم لوگ محبت کرتے ہیں
ہم سے ہبدوستان کی خوشبو آتی ہے
حسن رضا اطہر

قوت ملی کچھ ایسی لعاب رسول سے
مولی علی کو فاتح خیبر لکھا گیا
عنبر مشاہدی
پھول کی پتیاں ، ڈالیاں رات بھر
نعت پڑھتی رہیں وادیاں رات بھر
سید شکیل رہبر چین پوری
عشق واخلاق تو آیا میری تحریر کے ساتھ
نعت مجھکو بھی عطاکی گئی تاخیر کے ساتھ
تنویر جمال عثمانی

جس گھڑی دنیا میں آدم کی ہوئی توبہ قبول
عشق حواء میں پہنچ کر حسن عورت بن گیا
جاوید رضا صدیقی
ان کے علاوہ مولانا مقیم مشاہدی ، قاری شکیل مینائی ، اعظم مینائی سمیت شعراء نے اپنے اپنے کلام پڑھے ۔پروگرام میں بابا فقیر محمد ،جامعہ امیر العلوم مینائیہ کے پرنسپل قاری نثار احمد مینائی ، مولانا مذکر حسین خاں برکاتی ، قاری خلق اللہ فیضی ، قاری محمد الیاش مشاہدی ، مولانا عبدالوحید صدیقی ، حاجی احسان مینائی ، ولی محمد خاں ، رفیق عالم مینائی ، عارف مینائی ، جنید مینائی ، عشرت عزیز ، تبریز عالم اور سید ہاشم علی مینائی سمیت بڑی تعدادمیں عقیدت مندوں نے شرکت کی ۔


