صحافی راگھویندر باجپئی قتل کیس سے صحافی میں اشتعال ’
گرامین پترکار ایسوسی ایشن کے تحت گورنر اور وزیراعلی کو منسوب میمورنڈم ڈی ایم اور ایس پی کوسونپا ،متوفی کے متاثرہ کنبے کو سرکاری نوکری ایک کروڑ کا معاضہ دلانے کا مطالبہ
رپورٹ شرف الدین خان حشمتی
*مشاہد نگر،گونڈہ:گزشتہ دنوں سیتا پور ضلع کے صحافی راگھویندر واجپائی کی دن دہاڑے دہلی لکھنؤ قومی شاہراہ پر گولی مار کر قتل کرنے کو لیکر منگل کے روز ضلع کے صحافیوں نے اپنے غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ دفتر کے سامنے احتجاج کرکے گورنر اور وزیر اعلی کو ایک میمورنڈم ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو سونيا گیا.

گرامین پترکار ایسوسی ایشن تنظیم کے بینر تلے منگل کو صحافیوں کی کثیر تعداد کلکٹریٹ پہنچی اور سیتا پور کے ایک روزنامہ کے نامه نگار راگھویندر واجپیئ کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ کااظہار کیا۔ تنظیم کے ضلع انچارج سینئر صحافی ای آر عثمانی نے کہا کہ حکومت چوتھے ستون کی حفاظت کا دعویٰ کرتی ہےلیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے ۔ ریاست بھر میں آئے دن صحافیوں زدو کوب اور براساں کرنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور قتل کے واردات انجام دیےجا رہے ہیں لیکن حکومت اس پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ اس سے جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ یہ جمہوریت کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔۔ ضلع صدر پردیپ تیواری نے کہا کہ اگر متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں ملا تو اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی جائے گی اور پورے صوبے میں گرامین پترکار ایسوسی ایشن بڑے پیمانے پر اندولن کرنے کے لیے مجبور ہوجائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے۔
انہوں نے جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے ۔ تنظیم کے نائب صدر انل دوبے نے کہا کہ مجرموں کو سخت سزا دلانے کیلئے گرامین پترکار ایسوسی ایشن پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ گرامین پترکار ایسوسی ایشن کے ذریعے ضلع مجسٹریٹ نیہا شرما کی غیر موجودگی میں اے ڈی ایم انتظامیہ کو میمورنڈم سونپا گیا۔ اس دوران پولیس سپرنٹنڈنٹ ونیت جیسوال نے خود اپنے دفتر میں پہونچ کر میمورنڈم کو لیا۔
اس موقع پر ضلع نائب صدر پردیپ تیواری، جنرل سکریٹری اشوک پاٹھک، محبوب احمد ایڈووکیٹ، ونود کمار تیواری، ارجن پرساد مشرا، رویندر دویدی، ونے مشرا، یوگیندر دوبے، رابل تیواری ،راجیندر ترپاٹھی، رجنی کانت تیواری،گرچرن شرما، روبی اوستھی، رتن کالنی، شری پرکاش شکلا،خوشبو کنوجیہ، پنیتا مشرا پروین شریواستو، انوراگ مشرا آشیش ترپاٹھی، ریاض الدین، درگیش جیسوال، شیو کمار پانڈے، دیپک کوشل، رام کمار کوشل، دلیپ تیواری، موجی رام یادو، سوریامنی ،ترویدی، گورو یادو، انمول مشرا، موہت دوبے اومکار پانڈے، سمیت سیکڑوں کی تعداد صحافی موجود تھے۔


