گونڈہ(شیخ شمس)جو روزانہ آپ کے 1 روپیہ کی مدد سے ہزاروں غریب ، بے سہارا ضرورت مندوں کو مفت یا بہت کم خرچ میں سپر اسپیشلٹی ہسپتال اوربہترین علاج مہیا کرارہاہے ۔
ڈونیٹ 1 روپیہ ٹرسٹ کے بانی ڈاکٹر حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ” حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ جب تک ہم مسلمانوں میں پیدا نہیں ہوتا صحیح معنوں میں ہم اپنے مذہبی اصولوں پر چلنے والے نہیں ہوسکتے ”۔ اسی نظریہ کو زمین پر اتارنے کا جذبہ ڈاکٹر حبیب اللہ کے اندر تب پیدا ہوا جب وہ سال 2014 میں حج بیت اللہ پر تھے ۔وہاں سے لوٹتے ہی انھوں نے 5 دسمبر 2015 کو ڈونیٹ 1 روپیہ ٹرسٹ کی بنیاد ڈالی اوراپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کرتنظیمی ڈھانچہ تیار کیا ۔شروعاتی مرحلہ مشکل تھا لیکن ڈاکٹر حبیب اللہ کے مضبوط ارادوں اور مستقل کوششوں کانتیجہ یہ ہوا کہ لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا ۔پھر ڈاکٹر حبیب اللہ نے عوامی سطح پر ٹرسٹ ومتعارف کرانا شروع کیا اور بتایا کہ کس طرح آپ کے ذریعہ روزانہ نکالا جانے والا محض 1 روپیہ ملک بھر کے ہر ضلع میں ایک سپراسپیشلٹی ہسپتال کی سوغات دے سکتا ہے جہاں غریب اور بے سہارا لوگوں کو مفت علاج اور معاشی اعتبار سے کمزور لوگوں کو سستا اور بہترین علاج مہیا کراسکتا ہے ۔
انھوں نے بتایا کہ اگر دس ہزار لوگ ہر روز اپنی آمدنی سے محض 1 روپیہ روزانہ نکالتے ہیں تو ٹرسٹ کو روزانہ دس ہزار کی آمدنی ہوگی جو مہینے میں تین لاکھ اور سالانہ 36 لاکھ کا بجٹ مہیا کرائے گا اور محض پانچ سال میں 1 کروڑ 80 لاکھ ہوجائے گا جس سے جدید ترین سہولیات پر مبنی سپر اسپیشلٹی ہسپتال بناکر عوام کو ممنون کیا جاسکے گا ۔اسی طرح ہر ضلع میں دس دس ہزار لوگوں کا 1 روپیہ روزانہ کا تعاون آئندہ 5 سالوں میں ملک بھر کے اضلاع میں اس طرح کا سپر اسپیشلٹی ہسپتال ممنون کراسکے گا۔
ڈاکٹر حبیب اللہ کے اس مشن کو عوام نے بے حد پسند کیا اور ان کے جذبات واحساسات کی قدر کرتے ہوئے سب سے پہلے ایک برہمن کنبے نے گونڈہ ضلع کے کرنیل تحصیل کے تحت گڑرین پوروا براؤں میں تین ایکڑ اراضی وقف کردی جس پر فی الحال غریب اورنادار بچوں کے لئے اسکول چل رہا ہے ۔دھیرے دھیرے ٹرسٹ کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھتا گیا اور پھر گونڈہ لکھنؤ ہائیوے سے جڑے جرول روڈ سے پہلے محمد پور کمیار روڈ پر اس ڈریم پروجیکٹ کے پہلے جن سیوا ہسپتال کی سنگ بنیاد 2017 میں معروف عالم دین دارالعلوم یتیم خانہ صفویہ کرنیل گنج کے سابق پرنسپل مولانا فصیح الرحمان رحمہ اللہ کے ہاتھوں رکھا گیا اور 2018 میں جن سیوا ہسپتال بن کر تیار ہوگیا جس کا افتتاح یتیم خانہ صفویہ کے سربراہ اعلی الحاج شعیب العلیم بقائی صاحب کے ہاتھوں فیتا کاٹ کرکیا گیا جہاں 2018 سے مسلسل صحت خدمات انجام دی جارہی ہیں۔ اس جن سیوا ہسپتال نے لاک ڈاؤن کے دوران ایک ایمبولینس کا بھی نندوبست کیا جس سے کووڈ متاثرین اور غریب وبے سہارا لوگوں کو مفت ہستپال پہنچانے کا بھی مسلسل کام کیا جارہا ہے۔
پھر 2023 میں اس مشن سے متاثر ہوکر عالمی شہرت یافتہ ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے سابق صدر جناب ڈاکٹر فیض الحسن صاحب نے بھی نے اپناتعاون پیش کرنا شروع کیا اور انکی قیادت میں سب سے پہلے بارہ بنکی ضلع کے دریاباد میں ڈونیٹ 1 روپیہ ٹرسٹ کے تحت سید اطہر علی جن سیوا ہسپتال کی شروعات کی گئی جہاں ہرماہ مفت طبی کیمپ کے انعقاد ہورہے ہیں جن میں ہر ماہ ہزاروں لوگوں کو نامور اسپیشلٹ ڈاکٹروں کے ذریعہ مفت صحت خدمات فراہم کی جارہی ہیں ۔اسی طرح دیوی پاٹن منطقہ کے بہرائچ ضلع کے پچمبھا میں مولوی سراج احمد جن سیوا ہسپتال کی شروعات کی جاچکی ہے یہاں بھی ماہانہ فری میڈکل کیمپ کے انعقاد کئے جارہے ہیں اور ہزاروں ضرورت مندوں کو مفت صحت خدمات فراہم کرائی جارہی ہیں ۔اوراس طرح ڈونیٹ 1 روپیہ ٹرسٹ کے بانی ڈاکٹرحبیب اللہ کے خوابوں کی تعمیر ہورہی ہے ۔اور مجروح سلطانپور کا شعرسچ ثابت ہورہا ہے کہ
میں اکیلا ہی چلاتھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

