رپورٹ محمد عرفان شانو
کرنیل گنج, گونڈہ:کرنیل گنج قصبے کے محلہ بھیروناتھ پوروا کے رہنے والے تین نوجوانوں کی ایک ساتھ ممبئی موت ہونے کی خبر سے قصبہ سمیت ضلع بھر میں کہرام مچ گیا ہے بتایاجاتاہے کہ جس کمرے میں تینوں رہتے تھےصبح آس پاس کے لوگوں نے گیس گند حسوس کرکے پولیس کو مطلع کیا اور اس کے بعد اندر سے بند کمرے کا دروازہ توڑ کر پولیس تینوں نوجوانوں کی لاش برامد کی ہے مانا جارہا ہے کہ بند کمرے میں گیس لیک ہونے سے تینوں کی دم گھٹنےموت ہوئی ہے لاش کو پولیس نے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کی کارروائی کے لئے جے جے ہسپتال بھیجا ہےوہیں خبر ملتے ہی متاثرہ کنبوں کے افراد ممبئی روانہ ہوگئے ہیں۔

فراہم کردہ تفصیل کے مطابق بھیروناتھ پوروا کے رہنے والے اعظم (30)ولد محمد سلیم ، صفی احمد عرف چھٹکؤ (32)ولد رشید عرف بھلر اور شاہد علی (35)ولد امجد علی ممبئی کے وسئی میں پھل بیچنے کا کام کرتے تھے اور وسئی مغربی حلقہ کے نوپاڑہ محلے میں واقع آشا سدن میں کراۓ کا کمرہ لے کر ایک ساتھ تینوں رہتے تھے ۔اتوار کے روز جب آس پاس کے لوگوں نے گیس کی گندھ محسوس کی تو اسکی اطلاع پولیس کو دی گئی ۔موقع پر پہنچی پولیس نے اندر سے بند کمرے کا دروازہ توڑ کر جب اندر کا جائزہ لیا تو تینوں نوجوانوں کی لاشیں پڑی تھیں ۔ایک کی لاش کچن میں تو دوکی لاش ہال میں پڑی تھی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں نوجوانوں کی موت گیس لیک ہونے سے دم گھٹ کر ہوئی ہے ۔ایک ہی گاؤں کی تین نوجوانوں کی ایک ساتھ آئی موت کی خبر نے گاؤں علاقے بلکہ پورے ضلع میں غم کا ماحول پیدا کردیاہے ۔وہیں پولیس نے تینوں کی لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے جے جے ہسپتال بھیجا ہے ادھر متاثرہ کنبے کے افراد لاش لینے کے لئے ممبئی روانہ ہوگئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ افراد وہاں پہنچ چکے ہیں لیکن لاش کی حالت ایسی نہیں لگ رہی ہے کہ انہیں گاؤں لایا جاسکے اس لئے زیادہ امید جتائی جارہی ہے کہ ممبئی میں ہی انکی تدفین کرنی پڑسکتی ہے ۔اس معاملے کوتوال کرنیل گنج ہیمنت کمار گوڑ کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس کے ذریعہ انہیں ان تینوں نوجوانوں کی موت کی خبر دی گئی تھی جس کے بعد انھوں متاثرہ کنبوں کے اطلاع دی اور وہ لوگ ممبئی روانہ ہوگئے ہیں۔

