مولانا قاری افضل حسین امام وخطیب خلیل مسجد پورے تواری خرانسہ
گونڈہ:بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی کا انتقال ہو گیا، اس کے دو بیٹے تھے۔ ان دونوں کے مابین ایک دیوار کی تقسیم کے سلسلے میں جھگڑا ہو گیا۔ جب دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انہوں نے دیوار سے ایک غیبی آواز سُنی کہ تم دونوں جھگڑا مت کرو، کیونکہ میری حقیقت یہ ہے کہ میں ایک مدت تک اس دُنیا میں بادشاہ اور صاحب مملکت رہا۔ پھر میر ا انتقال ہو گیا اور میرے بدن کے اجزا مٹی کے ساتھ مل گئے۔ پھر اس مٹی سے کمہار نے مجھے گھڑے کی ٹھیکری بنا دیا ایک طویل مدت تک ٹھیکری کی صورت میں رہنے کے بعد مجھے توڑ دیا گیا۔پھر ایک لمبی مدت تک ٹکڑوں کی صورت میں رہنے کے بعد میں مٹی اور ریت کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔پھر کچھ مدت کے بعد لوگوں نے میرے اجزائے بدن کی اس مٹی سے اینٹیں بنا ڈالیں۔اور آج تم مجھے اینٹوں کی شکل میں دیکھ رہے ہو۔لہٰذا تم ایسی مذموم و قبیح دُنیا پر کیوں جھگڑتے ہو۔۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
غرور تھا نمود تھی ، ہٹو بچو کی تھی صدا اور آج تم سے کیاکہوں لحد کا بھی پتہ نہیں
آہ !آہ ! یہ دُنیا بڑی فریب دہندہ ہے فانی ہونے کے باوجود یہ لوگوں کی محبوب بنی ہوئی ہے۔یہ اپنی ظاہری رنگینی اور رعنائی سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے آخرت سے غافل کرتی ہے۔

