گونڈہ(نامہ نگار):ماماگھر شادی میں پرنسپل دنیش یادو کی کنپٹی پر طمنچہ سٹاکر فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اچانک گولی چلنے سے سنسنی پھیل گئی اور شادی کی وجہ خوشیوں کی تقریب ماتم میں تبدیل ہوگئی آنافانا دنیش کو ہسپتال لےجایا گیا لیکن وہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا موقع پر پہنچی تھانہ چھپیہ کی پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے ضلع ہیڈ کوارٹر روانہ کیا وہیں متاثرہ کنبے کی تحریر پر دونامزدملزمین اجے ورما اور رجن سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے ۔ فراہم کردہ تفصیل کے مطابق گزشتہ تھانہ چھپیہ کے تحت سسہنی گاؤں کے سی ڈی یادو انٹر کالج کے منیجر کےگھر شادی میں شامل ہونے کے لئے کالج کے پرنسپل دنیش یادو آئے ہوئے تھے کھانا کھانے کےبعد اپنے بھائی اور رشتے داروں کے ساتھ ماما کے گھرچلنے والی دوکان کے برامدے میں سورہے تھے

اسی دوران دیر شب حملہ آورآئے دنیش یادو کی کنپٹی پر طمنچہ لگاکر گولی ماری دی ۔گولی کی آواز سنتے ہی افراتفری مچ گئی آنافانا انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ۔ موقع پر پہنچے ایس پی ونیت جیسوال نےبتایا کہ رات تقریبا 1 بجےچھپیہ تھانےکی پولیس کو اطلاع ملی کہ چاندارتی گاؤں میں ایک شخص کے سر میں گولی لگی ہے ۔زخمی دنیش کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن اس کی موت ہوچکی تھی ۔اس کے بعد اعلی افسران کے ساتھ جائے واردات کا معائنہ کیا گیا اور ملی تحریر کے مطابق دونامزد ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے دوسرے کو بھی گرفتار کرنے کے لئے ٹیمیں لگائی ہیں ۔

