جامعہ اشرفیہ معین العلوم چشتی نگر عیدگاہ بھونکا میں منعقد اصلاح معاشرہ کانفرنس وجشن دستار بندی سے علماء کا خطاب
گونڈہ(نامہ نگار):اگر کوئی شخص شریعت کا پابند نہیں ہے توخواہ وہ کتنی حیرت انگیز کارنامے دکھاتا ہو حتی کہ ہوا میں اڑتا ہو یا پانی پر بھی چلتا ہو وہ ایک جادوگر تو ہوسکتا ہے لیکن مسلمانوں کا پیر نہیں ہوسکتا ۔یہ باتیں بدھ کی شب جامعہ اشرفیہ معین العلوم چشتی نگرعیدگاہ بھونکا میں حضرت علامہ سید نظام الدین اشرف اشرفی کچھوچھوی کی سرپرستی اور دارالعلوم یتیم خانہ صفویہ کرنیل گنج کے سربراہ اعلی الحاج سید شعیب العلیم بقائی کی قیادت میں منعقد اصلاح معاشرہ کانفرنس وجشن دستار بندی کو خطاب کرتے ہوئےصدرعلماء ومشائخ بورڈ ورلڈصوفی فورم مولانا سید اشرف اشرفی کچھوچھوی نے کہیں ۔ انھوں نے کہا کہ شیطان کبھی اپنے سرپر سینگ لگاکر نہیں آتا ہے بلکہ وہ ہمارے آپ کی طرح ہی آکر ہمیں ہمارے دین وشریعت سے متنفر کرکے گمراہ کرتا رہتا ہے اور عام لوگوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان اپنا پیر ، رہبر اور رہنما چنتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا رہبر یا پیر کیسا بھی لیکن دین وشریعت کا مکمل پابند ہو ۔الحاج سید شعیب العلیم بقائ نے کہاکہ ارتداد کے بڑھتے ہوئے فتنے اس بات کی علامت ہیں کہ ہم اپنے تہذیب و معاشرت میں کہیں نہ کہیں ناکام ہیں ،بچوں کا پہلا اسکول اسکا گھر اسکی ماں کی گود ہے

جس گھر کی بنیاد کمزور ہوتی ہے اسکی دیوار بھی کمزور ہوتی ہے ،لہذا سب سے پہلے والدین کو مظبوط ہونا ہوگا،
انہیں دینی مطالبات و شرعی احکامات کی پاسداری کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی پرورش اپنے روز مرہ کی ضروریات میں شامل کرنا چاہئے۔مولانا سیداعرف اشرف اشرفی کچھوچھوی نے کہاکہ اگر پیر صاحبان کے بچے انگریزی میڈیم اسکولوں میں پڑھ کرڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل ، بیرسٹر اور آئی اےایس بن سکتے ہیں تو عام مسلمانوں اور غریب کنبوں کے بچے کیوں نہیں بن سکتے ؟ اس لئے عام مسلمان اپنے علاقے میں دینی

تعلیم کے ساتھ عصری تعلیمات کا بھی بہترین بندوبست کریں تاکہ ہرگھر کا بچہ تعلیم وتربیت سے آراستہ ہوسکے اور پورے معاشرے کودینی اعتبار سے بھی اور معاشی واقتصادی طور پر بھی مضبوط بناسکے اور اس طرح ہم اپنے ملک کو ترقی یافتی ملک بنانے میں اہم کردار ادا کریں یہی ہمارے تعلیمی مراکز کا مقصد یونا چاہئے ۔اس موقع پر جامعہ سے فارغ 9 حفاظ کرام بشمول حافظ محمد دانش ، محمد فیصل ، محمد عثمان ، سعید آفریدی ، افروز ، آزاد ، سحیم ، محمد شبر اور محمد سمیر کے سروں پر علمائے کرام ومشائخ عظام کے ہاتھوں دستار باندھے گئے ۔ کانفرنس کا آغاز قاری شکیل اشرفی کے تلاوت کلام اللہ سے ہوا اس کے بعد قاری معصوم رضاقادری ، فیصل ربانی قیصر حسین سمیت شعراء اسلام نے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔ اس دوران بزم شام غزل کے جنرل سکریٹری مجیب صدیقی ، محمد یعقوب صدیقی عزم ، اجمل گوڑریا ، حاجی ارمان انٹیاتھوک ، مولانا اعظم لکھنؤ ، مولانا اسلام ، قاری کمال حسن ، قاری توصیف حسن ، قاری محمد شمیم ، قاری انیس ، قاری محمد علی ، قاری محمد قاسم ، مولانا محمد آل رسول ، قاری ذاکر ، محمد ساحل اور محمد شفیق سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجودرہے۔ پروگرام کی نظامت مولاناجمال اختر صدف نے انجام دی ۔

