بلرامپور:ملک اور ریاست کی سیاست میں پسماندہ سماج ، دلت اور اقلیتی طبقے (پی ڈی اے) کی نمائندگی جس طرح آج سماجوادی پارٹی سربراہ سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کررہے ہیں اس سے برسراقتدار پارٹی کی سیاست ڈگمگانے لگی ہے بالخصوص اترپردیش کی سیاست میں ایک نئی حرارت آگئی ہے ۔یہ باتیں جمعہ کے روز شراوستی پارلیمانی حلقے کے دورے پر آئے سماجوادی لیڈر مسعود عالم خاں نے کہا ۔
وہ سابق وزیر گینسڑی ایم ایل اے رہے آنجہانی ڈاکٹر ایس پی یادو کے پچپیڑوا واقع گاؤں میں ممعقد تیرہی میں شرکت کرنے آئے تھے ساتھ ہی انھوں نے پارلیمانی حلقہ شراوستی کے اسمبلی حلقہ شراوستی ،بلرامپور ، تلسی پور ، گینسڑی کا دورہ کرتے ہوئے درجنوں گرام پنچائیتوں میں ہوئے مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور سماجوادی پارٹی کارکنان کے گھر گھر جاکر حالیہ دنوں ان کے یہاں ہوئی اموات پر تعزیت پیش کی ۔شراوستی حلقہ کے بیلہا گرام پنچایت میں اورگونڈہ کے کھرگوپور نگر پنچایت کے تحت منعقد سماجوادی پارٹی کے تحت پی ڈی اے جن پنچایت پروگرام کو خطاب کیا اور کہا کہ انڈیا اتحاد اب ملک بھر میں مقبول ہورہا ہے جس سے این ڈی اے اتحاد کے قدم ڈگمگانے لگے ہیں ۔وہیں انھوں نے کہا کہ پسماندہ سماج ، دلت اور اقلیتی طبقہ کو جس طرح سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو نے متحد کرنے کا کام کہا ہےاس سے پورے ملک کی سیاست پر زبردست اثرہورہا ہے ۔پی ڈی اے کی یکجہتی اترپردیش سے این ڈی اے کو ختم کردے گی ۔وہیں انھوں نے یہ بھی کہاکہ برسراقتدار پارٹی کے ڈر کا یہ عالم ہے کہ اب کچھ بھی بولنے لگے ہیں یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ 2024 میں پھر سے آئیں گے تو بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤامبیڈکر کے آئین کو ختم کردیں گے یہ بہت ہی خطرناک سوچ ہے اس کے خلاف پسماندہ سماج ، دلتوں اور مسلمانوں ایک ہوکر این ڈی اے کو ہٹانے کا کام کرنا ہوگا ۔اس دوران ان کے ساتھ رام راج یادو ، ضیاء الرحمان خاں ، ڈاکٹر احسان خاں ، حاجی مشفق خاں ، سریش پاسوان ، ملائم یادو ، راجو یادو ، شاداب راعینی ، اتل پاسی ، کرشن چند پانڈے ، شہنواز وارثی ، نان بچی مشرا لمبردار ، جمال خان ، خورشید ازہری ، آصف لاری ، ارجن گوتم ، زیدخان ، کپل نشاد ، انوج موریہ ، رام نواس پاسوان ، رام کھلوان گوتم ، فرمان خان ، سفیان خاں ، راہل بھارتی اور روی وشوکرما سمیت سینکڑوں کارکنان شامل رہے۔

