مدنی نگر بھانپور واقع جامعتہ الطیبات میں منعقد ختم بخاری اور جلسہ ردائے فضیلت کے دوران مولانا مفتی توحید احمد کا خطاب ، 97 طالبات کو ملی ردائے فضیلت واسناد
گونڈہ(نامہ ):ہماری مائیں اور بہنیں اگر چاہ لیں تو آج بھی صدیق وعمر ،عثمان و علی اور صلاح الدین ایوبی پھر سے پیدا ہوسکتے ہیں یہ باتیں اتوار کے روز گوراچوکی حلقہ بھانپورمدنی نگر واقع جامعۃ الطیبات گرلس اسلامک کالج میں منعقد جلسہ ردائے فضیلت وعطائے اسناد تقریب کو خطاب کرتے ہوئے جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد سے آئے شیخ التفسیر و الادب العربی مولانا مفتی توحید احمد نے ‘ختم بخاری شریف ‘ کی روایت پوری کرتے ہوئے جامعہ سے فارغ ہونےوالی 97 طالبات اور انکے گھروں اور قرب وجوار سے آئی ہزاروں خواتین و طالبات کو خطاب کرتے ہوئےکہیں ۔
انھوں نے کہا کہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں سب سے بڑا کردار ہماری ماؤں اور بہنوں کا ہی ہوتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور ننھے معصوم بچے اسماعیل علیہما السلام کے ساتھ غیر آباد صحرائی بیابان میں چھوڑا تھا تو ایسی سخت آزمائش کو ایک خاتون نے ہی سر کیا تھا جسکی یادگار اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کے لئے حج جیسےاہم فریضے کو نافذ کردیا ۔ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پہلی بار وحی الہی کے لئے جبرائیل علیہ السلام سے سابقہ ہوا اور آپ پر وحی کا نزول ہوا تو گھبرا کر جب آپ گھر تشریف لائے امہات المومنین حضرت خدیجہ نے ہی آپ کو ڈھارس بندھائی اور کہا کہ اللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا اور سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والی بنیں ۔حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ کتنا مشہور ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو کبھی بھی کھانا پکاکر بذات خود سپرد نہیں بلکہ تربیت کے لئے ہمیشہ بیٹے کو دورکعت نماز پڑھ کر اللہ سے مانگنے کی تلقین کرتیں اور آخر کار ایک دن انکی غیر موجودگی میں اللہ نے حضرت بختیار کاکی کو بچپن میں ہی جنت کا کھانا عطافرمادیا ۔انھوں نے بچیوں سے کہا کہ آج سے تم عالمہ فاضلہ بن کر معاشرے کے حوالے ہونے جارہی ہو اب تمہاری ذمہ داریاں آج سے بڑھ گئی ہیں تمہیں ہی ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کرنی ہے تاکہ کتنے بھی حالات ناموافق ہوجائیں لیکن تم اور تمہاری اولادیں ایمان وعقائد کی حفاظت کے لئے چٹان کی طرح کھڑے ہونے والے بن جائیں تاکہ دنیا کی رنگینیاں انہیں آخرت کی کامرانیوں سے محروم نہ کرسکیں ۔خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے بمبئی سے تشریف لانے والی عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کی پوتی عالمہ فاضلہ ام ایمن صاحبہ نے خواتین کو نصیحت کی اور کہا کہ اس وقت ارتداد کا ماحول برپا کیا جارہا ہے جس سے خودکو اور اپنی اولادوں کو بچانے کے لئے ہم سب کو تیار رہنا ہوگا اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سب سے پہلے تعلیمات نبویہ سے آراستہ وپیراستہ کریں کیونکہ اللہ رب العزت نے ہی فرمادیا ہے کہ علم والے اور غیر علم والے برابر نہیں ہوسکتے ۔ جامعہ کے بانی مولانا بشیر احمد گونڈوی نے بھی بچیوں کو نصیحت کی ۔جامعہ سے فاغ ہونے والے 97 طالبات کو مہمان خصوصی دختر نیک قاری صدیق احمد باندوی ؒ کے ہاتھوں ردائے فضیلت ، اسناد اور ٹرافی/ تمغے عطاکئے گئے ۔اس دوران مولاناسید محمد انس باندوی ، مولانا مشیر احمد قاسمی ، مولانامفتی عباد الرحمان قاسمی ، حافظ رفیق احمد ، مولانا حسان بشیر احمد گونڈوی ، مولانا ابراہیم ، طفیل احمد گڈو ، نعمان بھائی ، مولانا حفیظ اللہ ، مولانا عثمان ، ڈاکٹر عبدالمنان سمیت موجودررہے۔
پردے کا خصوصی اہتمام بنا موضوع گفتگو
اتوار کے روز جامعۃ الطیبات گرلس اسلامک کالج بھانپور میں منعقد ‘جشن ختم بخاری شریف ‘ اور جلسہ ردائے فضیلت وعطائے اسناد ‘ کے موقع پر ختم بخاری شریف کی رسم ادا کرانے کے لئے مولانا مفتی توحید احمد صاحب مرادآباد سے تشریف لائے تھے ۔جامعہ سے فارغ 97 طالبات کو ختم بخاری کے تحت آخری حدیث کا درس دیا جانا تھا تمام طالبات کے ساتھ انکی مائیں اور بہنیں اور علاقہ سعداللہ نگر گوراچوکی کی خواتین بھی بڑی تعداد میں تشریف لائی تھیں مگر اسلامی پردے کا تقاضہ یہ اجازت نہیں دیتا کہ انہیں کوئی غیر محرم مرد عالم دین خطاب کرے اسی لحاظ سے جامعہ کی چھت پر مفتی موصوف کے لئے مائک کا بندوبست کیا گیا اور نیچے پنڈال میں طالبات اور دیگر سامعات پردے میں تھیں مفتی موصوف نے چھت سے ہی درس حدیث پیش کی اور تقریبا سوا گھنٹہ تک ایمانیات سے متعلق خطاب کیا یہ منظر آس پاس کے لوگوں کے لئے بالکل نیا تھا اور نہایت روحانی بھی ۔یہی وجہ ہے کہ یہ بات پورے علاقے میں موضوع بحث بن گئی ہے ۔
فوٹو۔بھانپور واقع جامعۃ الطیبات گرلس اسلامک کالج میں منعقد جشن ختم بخاری شریف اور ردائے فضیلت کے موقع پر جامعہ کی چھت پر درس حیدث پیش کرتے ہوئے مفتی توحید احمد اور موجود علمائے کرام

