ناقل حکیم مولانا قاری افضل حسین امام وخطیب خلیل مسجد پورے تواری خرانسہ
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم
حضرت مولانا نے اپنے طویل محاضرے میں بہت اہم نکات پر ملت کی رہنمائی فرمائی.
حضرت مولانا نے فرمایا کہ ملک میں مسلمان بہت سارے مسائل سے دو چار ہیں. شریعت کے مقاصد پانچ ہیں جن میں ایمان کی حفاظت، مال کی حفاظت، عزت وآبرو کی حفاظت شامل ہیں. مسلمانوں کو اپنے ایمان، تشخص اور تہذیب وثقافت کی حفاظت کرنی چاہیے. انہیں قانونی دائرے میں اپنے دفاع اور تحفظ کی بھی فکر کرنی چاہیے. دفاع کا یہ انتظام ظلم کرنے کے لئے نہیں بلکہ ظلم کو روکنے کے لئے ہونا چاہیے. نیز، مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے، انہیں مدارس کے پروگراموں میں اور مساجد میں مدعو کرنا چاہیے تاکہ وہ مانوس ہوں اور مدارس اور مساجد کے بارے میں اپنے غلط تصورات سے آزاد ہوسکیں.
مولانا نے مسلمانوں میں قانون کی تعلیم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اچھے وکلاء تیار کرنے اور لاء کالجز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا.
حضرت مولانا نے جان، ایمان اور تہذیب وثقافت کے تحفظ کے پیشِ نظر مسلم علاقوں میں رہنے کو بہت مفید بتایا اور فرمایا کہ مسلمانوں کو اپنی محفوظ آبادیاں بنانی چاہئیں. شہروں میں ایسی کالونیاں بسانی چاہیے جہاں مسلمانوں کے ایمان اور جان ومال کا تحفظ ہو. آج مسلم لڑکیوں کا ارتداد اور غیروں کے ساتھ شادیوں کے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے بھی تحفظ ہوگا.
حضرت نے مسلمانوں میں تعلیم اور روزگار کی رہنمائی کے مراکز کے قیام کی ضرورت بھی اجاگر کی. آپ نے حدیثِ نبوی المومن القوي خير من المومن الضعيف پڑھ کر فرمایا کہ طاقتور اور باصلاحیت مسلمان کمزور اور بے صلاحیت مسلمان سے بہتر ہے.
مسلمانوں کے معاشی مسائل کے ذیل میں مولانا نے فرمایا کہ ملک میں معاشی ادارے تین طرح کے ہیں. بینک، انشورنس اور اسٹاک ایکسچنج. بینک کا نظام مکمل طور پر سود پر مبنی ہے لہذا وہ مسلمانوں کے لئے درست نہیں ہے. انشورنس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ نقصان جس کا تحمل ایک فرد نہیں کرسکتا ہے اس کا تحمل کئی لوگ مل کر کرتے ہیں. انشورنس کی اصل اسلامی طریقے سے قریب ہے مگر اس میں غیر اسلامی چیزوں کی بھاری آمیزش کی وجہ سے یہ بھی مسلمانوں کے لئے صحیح نہیں رہا. جہاں تک اسٹاک اکسچنج اور شیئر مارکیٹ کی بات ہے تو یہ مسلمانوں کے لئے جائز اور مفید ہے. شیئر مارکیٹ کے نظام سے مسلمانوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے اور شرعی ہدایات کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں چاہئے کہ وہ بینکوں میں اپنے پیسے جمع کرنے کی بجائے انہیں شیئر مارکیٹ میں انویسٹ کریں، اس میں تجارت کریں اور معاشی طاقت حاصل کریں.
مولانا نے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے لئے دینی مکاتب کو اور ایسے عصری تعلیمی اداروں کو مزید قائم کرنے پر بھی زور دیا جہاں بیسِک (بنیادی) اسلامی تعلیم شامل ہو.
विज्ञापन👇………
شفاء اور خوشبو گھر
(آیوروید یونانی دواخانہ)
ہمارے یہاں ہمدرد ، طبیہ کالج ، ماھی ہربل, زین ، محبوب ، مون ہربل ، دہلوی ، ریکس ، نیوشمع ، بائیو میڈ ہربلس ، سنجو ، اور دیگر کمپنیوں کی دوائیں مناسب ریٹ پر دستیاب ہیں

مردوں اور عورتوں کے امراض کے متعلق تمام دوائیں دستیاب ہیں
ہمارے یہاں ڈرائی فروٹ ، شہد میں بھیگا انجیر، خالص شہد ، تلبینہ ، زیتون کا تیل ، بالوں کیلیے تیل ، وغیرہ دستیاب ہیں
عطر ، پرفیوم ، خوشبودار تیل ، گوری کریم ، اور کھجور وغیرہ دستیاب ہیں
ملنے کا پتہ مولانا افضل حسین گونڈوی پورے تواری خرانسہ ضلع گونڈہ اترپردیش
موبائل نمبر۔ 9838328150

