حکیم مولانا قاری افضل حسین امام وخطیب خلیل مسجد پورے تواری خرانسہ
گونڈہ: خیمۂ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
اسلام دنی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول ہے، جس بابرکت مہینے میں ہم فی الوقت داخل و متداخل ہیں۔ “ربیع” کے معنی “بہار” کے ہیں، اور اس مہینے کا یہ نام اس وقت رکھا گیا جب ابتدا میں فصلِ ربیع، یعنی موسمِ بہار کا آغاز ہوا تھا۔ یہ مہینہ بے شمار برکتوں اور فیوضات کا حامل ہے کیونکہ اسی مبارک مہینے میں رسولِ اکرم، شافعِ یوم النشور، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کی آمد سے انسانیت کے خزاں رسیدہ چمن میں بہار اندر بہار آئی، اور اسی لیے اس مہینے کو “ربیع الاول” کہا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد نے دم توڑتی انسانیت کو نئی زندگی عطا کی اور پامال ہوتی شرافتوں کا تحفظ کیا۔ آپ ہی نے بے کسوں اور مجبوروں کا سہارا بن کر حقوقِ انسانی اور اُن کے مقامات و مراتب واضح فرمائے۔ اگرچہ آپ کی ظاہری زندگی مختصر تھی، لیکن آپ نے اک ایسا انقلاب برپا کیا جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ آپ نے لوگوں کے دلوں کی دنیا بدل ڈالی، تمناؤں اور آرزوؤں کا رخ موڑ دیا، اور جنہیں سیدھے راستے کا علم نہ تھا، انہیں اپنی نرالی اور انقلابی تعلیمات کے ذریعے ایسا تراشا کہ وہ آنے والی نسلوں کے امام بن گئے۔
ہوں لاکھوں سلام اس آقا پر بت لاکھو جس نے توڑ دئے
دنیا کو دیا پیغام سکوں ،طوفانوں کے رخ موڑ دئے
اس محسن انسانیت نے کیا کچھ نہ دیا انسانوں کو
دستور دیا منشور دیا کئی راہیں دیں کئی موڑ دئے-

