گونڈہ(نامہ نگار):گونڈہ نگر پالیکا پریشد کی موجودہ چیئرپرسن عظمی راشد کو جمعہ کے روز شہر کوتوالی پولیس نے پہلے ہاؤس اریسٹ کیا اور جمعہ کے بعد میڈکل جانچ کے بعد گرفتار کر لی گئیں ان کے خلاف گزشتہ ماہ 16 مارچ کو دھوکہ دہی اور جعل سازی سمیت دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ الزام ہے کہ نگر پالیکا کے دستاویز میں سازش کرکے غیر قانونی طریقے سے دشمن املاک کو عظمی راشد کے نام درج کیاگیا ہے ۔
بتادیں کی دشمن املاک کی نگراں وزارت داخلہ حکومت ہند کی ہدایت پر گزشتہ سال جون 2023 میں نگر پالیکا چیئرپرسن عظمی راشد کے رہائشگاہ جو کہ رکاب گنج فیض آباد روڈ دوکان نمبر 15 و16پرواقع ہے سیل کردیا گیا گیا تھا اور اس کو دشمن املاک قرار دیا تھا ۔یہ بھی بتادیں کہ 1967 میں ملک بھر کی دشمن املاک کو وزارت داخلہ حکومت ہند کے نام ٹرانفر کی جاچکی تھیں ۔یہاں گونڈہ شہر میں سال 2020 میں رکاب گنج واقع دشمن املاک پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ بھی روشنی میں آیا تھا ۔شکایت کے بعد وزارت داخلہ کے ذریعہ اسکی جانچ پڑتال کرائی گئی تھی جس میں دشمن املاک پر غیر قانونی قبضے کا خلاصہ ہوا تھا اور پھر اسکی اعلی سطحی جانچ کی گئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ عظمی راشد کو سال 2001 ۔02 سے ان املاک کا کرائے دار دکھایا گیاہے ۔بعد میں ان املاک کا ٹرانسفر بھی کرالیا گیا ۔جانچ میں یہ بھی خلاصہ ہوا کہ نگر پالیکا پریشد کے دشمن املاک سے متعلق دستاویزوں میں چھیڑچھاڑ کی گئی ہے اور سازش کرکے ان پر عظمی کا نام درج کیا گیا ہے ۔وزارت داخلہ کی ہدایت پر ضلع مجسٹریٹ نیہا شرما نے گزشتہ ماہ 16 مارچ کو اسسٹنٹ رجسٹر تحصیل صدر کے ذریعہ شہر کوتوالی میں دھوکہ دہی اور جعل سازی سمیت مختلف دفعات میں مقدمہ درج کرایا ۔مقدمہ درج ہونے کے بعد سے مسلسل عظمی راشد کی گرفتاری کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ وہیں جمعتہ الوداع کے روز عین جمعہ سے قبل انہیں ان کے جگر گنج واقع رہائشگاہ پر ہاؤس اریسٹ کرلیا گیا اور جمعہ کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں صحت جانچ کے بعد گرفتار کرکے شہرکوتوالی لایا گیا ۔
عین عام انتخاب کے وقت کی گئی کارروائی سیاسی کارروائی ہے:پرمود مشرا
گوندہ نگر پالیکا پریشد کی دوسری بار عوامی سطح پر منتخب چیئرپرسن عظمی راشد کی عین عام انتخابات کے دوران ہوئی گرفتاری فی الحال پوری طرح سیاسی لگ رہی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ ضلع انتظامیہ برسراقتدار پارٹی کے دباؤ میں ہے ورنہ عوامی سطح پر منتخب ایک اہم عہدے پر موجود ایک خاتون چیئرپرسن کو گرفتار کرنے کی ابھی ایسی کوئی ضرورت نہیں محسوس ہوتی ہے ۔جہاں تک دشمن املاک پر غیر قانونی قبضے کی بات ہے تو اس میں ان کے والد سابق چیئرمین مرحوم قمرالدین قمرکا رول ہوسکتاہے جو جانچ کاموضوع ہے ۔فی الحال عظمی کو گرفتار کرکے الیکشن کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ باتیں نمائندہ انقلاب سے بات کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے ضلع صدر پرمود کمار مشرانے کہی ہیں ۔ساتھ ہی بار ایسوسی ایشن گونڈہ کے سابق صدر کامریڈ دینا ناتھ ترپاٹھی نے بھی عظمی کی گرفتاری کو سیاسی قرار دیتے ہوئے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے تحت کی جارہی کارروائیوں کا ایم پارٹ قرار دیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس کے ذریعہ بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔

