شیخ شمس
بلرامپور : قرآن مقدس کے نزول کا مقصد حصول ہدایت ہے اس لۓ ہر مسلمان کو چاہۓ کہ وہ خود بھی قرآن کا علم حاصل کرے اور اپنے اہل خانہ کو بھی قرآن کے علم سے سرفراز کرے۔ قرآن کا علم وہ نفع بخش علم ہے جس کے ذریعہ انشاء اللہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی۔ قابل مبارکباد ہیں وہ والدین جو اپنے بچوں کو قرآن کے مفید اور بابرکت علم سے آراستہ کرنے کی فکر پر عمل کرتے ہیں۔

یہ باتیں آغاز علم قرآن کے موقع پر منعقدہ فیضان قرآن کی تقریب کے مقرر خصوصی مولانا نورالحسن خاں ازہری اور صدر محفل مولانا سید احمد رضا نے علم قرآن کی فضیلت اور ضرورت پر خطاب کرتے ہوے کہیں۔ مصور علی کے پانچ سالہ صاحبزادہ محمد ارحان خان نے قرآن کے دس الگ الگ پاروں کو مکمل کرنے کے بعد علم قرآن کو مکمل طور پر حاصل کرنے کی غرض سے قرآن مجید کا آغاز کیا اس موقع پر فیضان قرآن کے موضوع پر ایک تقریب بھی منعقد کی گئی جس کی صدارت مولانا سید احمد رضا نے کی اور تلاوت قرآن سے تقریب کا آغاز قاری فریاد حسین اور قاری اقرار احمد برکاتی نے کیا۔ تقریب کے باضابطہ آغاز سے قبل علماء و حفاظ کی موجودگی میں مولانا سید احمد رضا نے پانچ سالہ طالب علم محمد ارحان خان کو قرآن کا ناظرہ شروع کرایا۔ جامعہ مسجد کے امام اور طالب علم کے مستقل استاذ حافظ عبدالحمید انصاری کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا گیا اور طالب علم کے اہل خانہ کی جانب سے عزت افزائی کے ساتھ ہی تحفہ و تحائف بھی پیش کۓ گۓ۔
مقرر خصوصی مدرسہ فضل رحمانیہ پچپڑوا کے پرنسپل مولانا نورالحسن خاں ازہری نے کہا کہ اگر قوم مسلم علم قرآن سے آراستہ ہو کر تعلیمات قرآن اور سیرت مصطفے کے مطابق زندگی گزارے تو انشاء اللہ نہ صرف ہر طرح کے فتنہ و فساد اور شر سے محفوظ ہو جاۓ گا بلکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے ساتھ سر بلندی عطا ہوگی۔ مگر افسوس کامقام ہے کہ دور حاضر کا مسلمان علم قرآن اور سیرت مصطفے سے ناواقفیت کی وجہ سے آج بے یار و مددگار گمراہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مولانا نورالحسن خاں نے قوم مسلم کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ اب بھی وقت ہے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اللہ بڑا رحیم ہے علم قرآن حاصل کرو، مسلم معاشرہ میں تعلیمات قرآن کو عام کرو، سیرت مصطفے کے مطابق زندگی کے ہر گوشہ میں عمل پر قائم رہو اسی میں دنیا و آخرت میں کامیابی ہے۔
صدر محفل مولانا سید احمد رضا نے کہا کہ قابل مبارکباد ہیں وہ والدین جو اپنے بچوں کی توجہ علم قرآن کی طرف مرکوز کراتے ہیں۔ اللہ کے رسول محمد مصطفے صل اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ علم والوں کو دوسروں کے مقابلے میں ایسی ہی فضیلت حاصل ہے، جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر۔ یقینا ﷲ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔‘‘ یہی نہیں اہل علم کا مقام و مرتبہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے انہیں انبیائے کرامؑ کا وارث اور جانشین تک قرار دیا ہے۔ اس لۓ ہمیں چاہۓ کہ ہم اپنے بچوں کو علم دین کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ کریں تاکہ ان کی بھی دنیا و آخرت سنور جاۓ اور ہم سے بھی اللہ رازی ہو جاۓ۔
مفتی مزمل اختر نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ علم کا سیکھنا ہر مومن پر فرض ہے اللہ علم دین حاصل کرنے والوں سے رازی ہوتا ہے۔ جو کوئی بھی حصول علم کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ﷲ اس کے بدلے اسے جنت کی ایک راہ پر چلاتا ہے۔ علم دین حاصل کرنے والے طالب علم کی خوشی کے لۓ فرشتہ اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ آج مسلم معاشرہ تعلیمی پسماندگی کا شکار ہو کر مختلف منفی اثرات سے دوچار ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دانش وران قوم آگے آئیں اور قوم مسلم کو علم سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں تاکہ ہماری قوم کے بچوں کا مستقبل روشن ہو سکے۔
امام جامعہ مسجد حافظ عبدالحمید نے قرآن عظیم کے علم کو معاشرہ میں عام کرنے کی تلقین کرتے ہوۓ کہا کہ اگر قوم مسلم کے ہر طرح کی پسماندگی کو دور کرنا ہے تو انہیں علم سے آراستہ کرنے کی راہ ہموار کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علم قرآن ہی واحد وہ ذریعہ ہے جس کے سہارے ہم قوم کی زبوں حالی کو دور کر سکتے ہیں۔
مولانا زین العابدین علیمی نے کہا کہ قرآن مجید ایک نور ہے اگر بچوں کو دل و دماغ قرآن کی تعلیم سے آراستہ کیا جاۓ تو انشاء اللہ نہ صرف ان کی طرز زندگی اللہ کی رزا حاصل کرنے والی ہوگی بلکہ باطن بھی منور ہو جاۓ گا۔ ہمیں چاہۓ کہ ہم اپنے بچوں کو علم قرآن سے آراستہ کریں کیونکہ اللہ کے رسول ارشاد فرماتے ہیں کہ جو سخص اپنے بچوں کو قرآن ناظرہ قرآن کریم کے علم سے آراستہ کرے اس کے سب اگلے پچھلے گناہ بخش دۓ جاتے ہیں۔
مولانا فیاض احمد مصباحی برکاتی نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار معیاری اعلی تعلیم پر منحصر ہے اس لۓ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر کے ساتھ معیاری تعلیمی اعداروں کے قیام کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تیار کی جاۓ اور مسلمانوں میں تعلیم کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لۓ مہم چلائی جاۓ۔
قاری فریاد حسین نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں علم قرآن کی فضیلت بیان کرتے ہوۓ کہا کہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے بچہ کو بغیر دیکھے (حفظ قرآن) قرآن کی تعلیم سے آراستہ کیا تو اللہ رب العزت اس بچہ کے باپ کو چودھویں رات کے چاند کے مانند اٹھاۓ گا۔
قاری اقرار احمد برکاتی نے کہا کہ والدین کو چاہۓ کہ وہ اپنے بچوں کو علم قرآن سے آراستہ کرنے کے لۓ ایسے معیاری استاذ کا انتخاب کریں جو بچوں کو مخارج کے ساتھ قرآن کی تعلیم دیں تاکہ بچہ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھ سکیں کیونکہ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا فرض عین ہے اس لۓ والدین اس کا خاص خیال رکھیں۔
اس موقع پر فاتحہ خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ صلات و سلام کے بعد مولانا سید احمد رضا کی دعا پر فضیلت قرآن کی تقریب کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں نوازش علی فریدی، شعبان علی، شفیق احمد، محمد ذکی، مولانا فیاض احمد مصباحی برکاتی، محمد توقیر فریدی، سینئر صحافی صابر علی، محمد لئیق ببو، پپو ماسٹر، شبو، غزالی، آذان خان، محمد امان خان وغیرہ قرب و جوار کے لوگ بڑی تعداد میں موجود رہے۔ آخر میں صاحب خانہ مصور علی خاں نے اظہار تشکر پیش کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوٹو کیپشن: پانچ سالہ طالب علم محمد احان خان کو قرآن شروع کراتے مولانا سید احمد رضا ساتھ میں مولانا نورالحسن خاں ازہری اور مفتی مزمل اختر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

