رپورٹ- غلام جیلانی بیگ
سعد اللہ نگر (بلرام پور)
سعد اللہ نگر/بلرام پور۔ مولائے کائنات ویلفیئر فاؤنڈیشن کے اراکین نے رام گری مہاراج کی طرف سے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے قابل اعتراض تبصرہ کیا ہے۔ جس کے حوالے سے تنظیم کے اراکین اور علاقے کے علماء کرام نے اتر پردیش کے گورنر کے نام ایک میمورنڈم تحصیلدار اتراولہ کو سونپی۔ مرکزی پریس کونسل اترپردیش کے ریاستی سکریٹری نوشاد خان نے کہا کہ رام گیری مہاراج سنستھان سرلا دھرم پور ضلع احمد نگر (مہاراشٹر) نے پیغمبر اسلام حضرت محمد (ﷺ) پر نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے قابل اعتراض تبصرہ کیا ہے۔
جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے عقائد اور جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ مسلم کمیونٹی پرامن ہے اور امن چاہتی ہے۔ لیکن امن، سیکولرازم اور گنگا جمونی ثقافت کے نام پر ملک کا مسلم معاشرہ اپنے مذہب اور پیغمبر اسلام کی توہین برداشت نہیں کرے گا۔ رام گیری مہاراج کے خلاف قانونی اور سخت کارروائی کی جائے اور مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ تاکہ ملک کا ماحول خراب کرنے والوں کے حوصلے پست ہوسکیں۔ اگر رام گری مہاراج کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو ملک اور ریاست کے مسلمان مختلف تنظیموں کے بینر تلے پرامن طریقے سے سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوں گے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی انتظامیہ کی ہوگی۔ اس موقع پر نوشاد خان، مولانا سید محب الحق، سید فرحان رضا، محمد مونس، محمد جاوید، مولانا طفیل، عدیل حشمتی، ضیاء یزدانی، التمش صدیقی، محمد غفران، محمد عرفان، توصیف رنگریز، سمیر خان، نظام الدین، محمد وقاص، محمد علی شہزاد، احمد رضا وغیرہ سینکڑوں لوگ موجود تھے۔

